violin
تم ایک نظم ہو جس میں ردیف کی کوئی شرط نہیں
تم سب سے جدا ہو سب سے معصوم
جیسے کہ
تمہارا مسکرانا
تمہارا اچھلنا تمہاری ناراضگی
تمہارا مجھ سے بات نہ کرنا
تمہارا اچانک سے کھلکھلا کے مجھے پکارنا
تمہاری معصومیت
تمہاری خاموشی
تمہارے کھلے بال جیسے کوئی لہر ہو
تمہارا ہُوڈی پہننا
تمہارا غصہ کرنا
تمہارا کلاس میں سوال پوچھنا
تمہارا کلاس میں لیٹ آنا
تمہارا بیگ
تمہاری آنکھیں
تمہارا رونا جیسے کوئی وائلن کی دھن، جو بادلوں کو برسنے پر مجبور کر دے۔
مجھے خود پر دسترس ہوتی تو میں کبھی نہ کہتا کہ تم میری پسند ہو
مگر وقت سے ڈر لگتا ہے کہ کہیں میں تمہیں کھو نہ دوں، کہ ایک عمر کے بعد رات کے پچھلے پہر یہ گمان مجھے پریشان نہ کرتا رہے کہ میں ایک بار بھی تمہیں یہ نہ کہہ پایا کہ تم میری پسند ہو۔
Comments
Post a Comment